حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ علی حسنین حسینی نے اپنے ایک بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غیر جمہوری، غیر آئینی اور خیبر پختونخوا عوام کے آئینی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے کوئی آئینی اور قانونی جواز موجود نہیں۔ ایک منتخب صوبائی حکومت کو محض سیاسی اختلافات یا وفاقی حکمرانوں کے مخصوص مفادات کی بنیاد پر ختم کرنا جمہوری اصولوں، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ صوبے کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جس حکومت کو منتخب کیا ہے، اس کے مینڈیٹ کا احترام کرنا وفاقی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امن و امان کی صورتحال یا حکومتی رٹ کی عدم موجودگی کو ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا جواز بنایا جائے تو بلوچستان سمیت دیگر علاقوں کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے، جہاں عوام بدترین بدامنی، دہشت گردی اور حکومتی رٹ کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا کو نشانہ بنانا کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ایم ڈبلیو ایم کے رہنما نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی قیادت میں پاکستانی عوام کے جمہوری حقوق کے تحفظ میں ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا ہے اور مرکزی قیادت کے اعلان کے مطابق مجلس کی صوبائی قیادت دیگر جمہوریت پسند قوتوں کے ساتھ مل کر اس غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام کے خلاف بھرپور صدائے احتجاج بلند کرے گی۔










آپ کا تبصرہ